ابنا: رپورٹ کے مطابق چین کے صدر شی جین پینگ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹین نے کل چین کے شہر شنگھائی میں ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دیگر ملکوں میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کی مخالفت کی۔ دونوں ملکوں کے سربراہوں نے یکطرفہ اقدامات منجملہ دیگر ملکوں کے خلاف عائد یکجانبہ پابندیوں کا سلسلہ بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ۔ واضح رہے کہ روس کے صدر چین کے شہر شنگھائی میں ایشیا میں باہمی رابطے اور اعتماد سازی کےاقدامات (سیکا) کانفرنس میں شرکت کے لئے چین کے دورے پر ہيں۔ سیکا کا چوتھا سربراہی اجلاس بدھ کو منعقد ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ ایران، چین، ہندوستان، افغانستان، جمہوریہ آذربائیجان، بحرین، کمبوڈیہ، مصر، عراق، اردن، قزاقستان، قرقیزستان، منگولیہ، پاکستان، فلسطین، جنوبی کوریا، روس، تاجیکستان، ترکی، متحدہ عرب امارات، ازبکستان اور ویتنام سیکا کے اصل رکن ممالک ہیں جبکہ اس تنظیم میں آرمینیا، بھوٹان، برونئی، قبرص، جارجیا، کویت، لاؤس، لبنان، مالدیپ، میانمار، نیپال، عمان، شمالی کوریا، سعودی عرب، سنگاپور، شام، تائیوان، مشرقی تیمور، ترکمنستان اور یمن، غیر رکن ممالک کی حیثیت سے سرگرم عمل ہیں۔ اس کے علاوہ، بنگلہ دیش، انڈونیشیاء، جاپان، ملائیشیاء، فلپائن، قطر، سری لنکا، یوکرین اور امریکہ، اس تنظیم میں مبصر کی حیثیت سے رکنیت رکھتے ہیں۔سیکا کا ہر چار سال میں ایک بار سربراہی اجلاس منعقد ہوتا ہے۔
.......
/169